How to Get Child Custody in Pakistan? Rights of Mother and Father After Divorce
In child custody cases in Pakistan, courts prioritize the welfare of the child over the preferences of the parents. Under the Guardian and Wards Act 1890, custody of sons below the age of 7 and daughters until puberty is generally granted to the mother, after which it may be transferred to the father. However, the court always considers the child’s best interests as the primary factor.
پاکستان میں شادی شدہ جوڑوں کے مابین طلاق ہوجانے کے بعد بچوں کی حوالگی جسے چائلڈ کسٹڈی بھی کہا جاتا ہے کا معاملہ ایک انتہائی پیچیدہ قانونی مسئلہ ہے۔ مرد اور عورت دونوں ہی بچے کی ملکیت کے لیے قانونی جنگ لڑنے کو تیار ہوتے ہیں، لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اکثر اس دوران بچے کی بہتری،مستقبل اور فلاح پسِ پشت چلی جاتی ہے۔ پاکستانی قوانین میں چائلڈ کسٹڈی سے متعلق کئی پیچیدگیاں ہیں، جنہیں جاننا ہر کسی کے لیے ضروری ہے۔
پاکستان میں بچوں کی کسٹڈی کا قانون – Guardian and Wards Act, 1890
پاکستان میں بچوں کی حوالگی کے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 بنیادی قانونی دستاویز ہے۔ یہ قانون قیام پاکستان سے قبل برطانوی دور حکومت میں بنایا گیا تھا اور وقتاً فوقتاً اس میں ترامیم کی گئی ہیں، تاہم اس میں آج بھی کئی اہم خامیاں موجود، ہیں۔جن کو درست کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
ولایت اور حضانت کا تصور
پاکستان میں چائلڈ کسٹڈی کے حوالے سے عام طور پر حضانت اور ولایت کی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں
حضانت: بچے کی پرورش اور حوالگی کا حق، جو اکثر عدالت کی طرف سے ماں کو دیا جاتا ہے،اسے حضانت کہا جاتاہے۔
ولایت: بچے کے قانونی اور مالی معاملات کی سرپرستی، جو عام طور پر عدالت کی طرف سے باپ کو دی جاتی ہے اسے ولایت کہا جاتاہے۔
کسٹڈی کا فیصلہ کرتے وقت عدالت کن عوامل کو دیکھتی ہے؟
عدالت ہمیشہ اسلامی قوانین کو مدنظر رکھتے ہوئے بچے کی بہترین بھلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرتی ہے، جس میں درج ذیل نکات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
والدین کی مالی حیثیت۔
والدین کے کردار اور اخلاق۔
بچے کی پرورش اور دیکھ بھال کے لیے والدین کی صلاحیت و اہلیت۔
اگر بچہ سمجھدار ہے تو اس کی رائے کو بھی عدالت کی طرف سے اہمیت دی جاتی ہے۔
بچے کی حوالگی کے لیے قانونی عمر کی حد (What is the age limit for Child Custody)
پاکستان میں کسٹڈی کے حوالے سے بچے کی عمر کا بھی اہم کردار ہے
بیٹے کی حوالگی ماں کو 7 سال کی عمر تک دی جاتی ہے۔
بیٹی کی کسٹڈی ماں کو بلوغت و جوانی کی دہلیزتک دی جاتی ہے۔
عدالت کو اگر ماں کا کردار مشکوک ظاہر ہو، یا بچے کی بھلائی کے خلاف ہو تو عدالت یہ حق باپ یا کسی اور قریبی رشتہ دار کو بھی دے سکتی ہے۔
ماں کے کردار کا جائزہ
عدالت ماں کے کردار کو خاص طور پر دیکھتی ہے۔ اگر ماں کا کردار یا طرزِ زندگی قابل اعتراض پایا جائے تو حق حضانت ختم ہو سکتا ہے۔
والد کو کب کسٹڈی مل سکتی ہے؟
سات سال کے بعد بیٹے کی کسٹڈی اکثر باپ کو دے دی جاتی ہے۔
بلوغت کے بعد بیٹی کی کسٹڈی بھی اکثر باپ کو دی جاتی ہے۔
اگر ماں دوسری شادی کر لے اور عدالت سمجھے کہ یہ بچے کی بہتری کے خلاف ہے تو والد کو کسٹڈی دی جا سکتی ہے۔
کسٹڈی کے دوران ملاقات کے حقوق
طلاق یا خلع کے بعد اکثر والدین بچوں سے ملاقات کے حوالے سے جھگڑتے ہیں جو کہ ہمارے معاشرے میں ایک عام پریکٹس ہے۔
فیملی کورٹ کی طرف سے جسمانی کسٹڈی یعنی بچے کی حوالگی عام طور پر باپ اور ماں میں سے کسی ایک کو دی جاتی ہے۔
بچہ والدین میں سے جس کے پاس نہیں رہتا والدین میں سے (ماں یا باپ) دوسرے کو ملاقات کا حق دیا جاتا ہے۔
یہ ملاقات کورٹ کے طے شدہ شیڈول کے مطابق ہوتی ہے، جو گارڈین کورٹ جاری کرتی ہے۔
گارڈین کورٹ کا کردار
پاکستان میں چائلڈ کسٹڈی کے مقدمات گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کے تحت گارڈین کورٹ میں سنے جاتے ہیں۔
عدالت بچے کی فلاح و بہبود کو مدنظر رکھ کر فیصلہ کرتی ہے۔
مالی، اخلاقی، تعلیمی، اور والدین کے رہائشی حالات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
چائلڈ کسٹڈی اور سرپرستی میں فرق کیوں اہم ہے؟
کسٹڈی: حوالگی یا کسٹڈی بچے کے روزمرہ معاملات، تعلیم، صحت، اور جذباتی تربیت سے متعلق ہے۔
سرپرستی: جبکہ سرپرستی قانونی معاملات، جائیداد، نکاح، اور مالی امور سے متعلق ہے۔
دونوں کے اصول اور قانونی اثرات مختلف ہیں، مگر پاکستان میں ان کا فرق اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر ممالک کے قوانین میں ان چیزوں کو خاص طور پر اہمیت دی جاتی ہے۔
بین الاقوامی معاہدے اور مقامی قوانین میں ہم آہنگی
پاکستان نے اقوام متحدہ کے بچوں کے حقوق سے متعلق کنونشن 1989 پر دستخط کر رکھے ہیں، جس میں بچے کی بہترین بھلائی کو فوقیت دی گئی ہے۔
مقامی قوانین کو بین الاقوامی معیارات کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔
پاکستان میں بچوں کی حوالگی کا قانونی طریقہ
بذریعہ وکیل ضلعی عدالت میں گارڈین شپ / کسٹڈی کی درخواست دائر کریں۔
عدالت والدین کی مالی، اخلاقی، اور دیگر صلاحیتوں کا جائزہ لے گی۔
بچے کی بہترین بھلائی کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت فیصلہ سنائے گی۔
پاکستان میں بچوں کی حوالگی سے متعلق اہم عدالتی فیصلے (Case Laws For Child Study )
مسرت حمید مائی بنام ارشاد حسین (PLD 2002 SC 267)
:فیصلے کا خلاصہ
سپریم کورٹ نے واضح کیا کہ بچوں کی حوالگی کے مقدمات میں سب سے اہم چیز بچے کی فلاح و بہبود اور بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔
اگرچہ اسلامی قوانین کے تحت باپ کو کچھ حقوق حاصل ہیں، لیکن یہ حقوق بچے کے بہترین مفاد کے تابع ہیں۔
شبانہ ناز بنام محمد سلیم (2014 SCMR 343)
:فیصلے کاخلاصہ
عدالت نے اس بات کو دوبارہ دہرایا کہ اسلامی قوانین والدین کو کسٹڈی کے کچھ حقوق دیتے ہیں، لیکن یہ حقوق بھی ہمیشہ بچے کی فلاح و بہبود کے ماتحت ہیں۔
عدالت کا بنیادی مقصد بچے کا بہتر مستقبل اور مفاد ہوتا ہے۔
مسرت زہرہ بیگم بنام سید علی عباس (PLD 2008 SC 427)
:فیصلے کا خلاصہ
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ ماں کو دی گئی حق حضانت کا حق مطلق نہیں ہے۔
اگر بچے کی فلاح و بہبود کا تقاضا ہو، تو ماں کا حق حضانت ختم کیا جا سکتا ہے۔
عدالت نے کہا کہ ہر کیس کو اس کے حالات کے مطابق دیکھا جائے گا، تاکہ یہ معلوم ہو کہ کس انتظام میں بچے کا مفاد زیادہ ہے۔
فرزانہ ناز بنام محمد سلیم (2015 SCMR 1672)
فیصلے کاخلاصہ
عدالت نے یہ اصول طے کیا کہ صرف مالی حیثیت کو بنیاد بنا کر کسٹڈی کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔
بچے کی جذباتی صحت، اچھی تربیت، اور محفوظ ماحول بھی بہت اہم عناصر ہیں، جنہیں دیکھ کر عدالت فیصلہ کرتی ہے۔
روبینہ جیلانی بنام زاہد جیلانی (PLD 2010 SC 925)
:فیصلے کا خلاصہ
سپریم کورٹ نے کہا کہ والدین کے درمیان ہونے والے معاہدے کسٹڈی کے بارے میں عدالت پر لازم نہیں ہوتے۔
عدالت کے پاس یہ اختیار ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت کسٹڈی کا انتظام تبدیل کر سکتی ہے، اگر اسے لگے کہ یہ تبدیلی بچے کے مفاد میں ہے۔
لب لباب
پاکستان میں بچوں کی حوالگی کے قوانین میں موجود خامیوں اور پیچیدگیوں کے باوجود مقامی عدالتیں بچے کی بہترین نشوونما اور بھلائی کو ترجیح دیتی ہیں۔ گارڈین اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے تاکہ والدین اور بچوں کو درپیش قانونی مشکلات کم ہو سکیں۔
I am practicing advocate of the High Court Multan and Legal Content Writer, writing authoritative and research-based legal content for Qanooni Rah. I specialize in Pakistani laws, legal drafting, case analysis, and public-friendly legal guides, supported by strong SEO and legal publishing skills.




