sania zahra qatal case, sania zahra murder case, sania zahra suicide, ثانیہ زہرا قتل کیس
|

Sania Zahra Murder Case Multan: How a Suspected Suicide Turned Into a Proven Murder

سیدہ  ثانیہ زہرہ ملتان کے ایک معزز، مذہبی اور سماجی طور پر بااثر گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ اُن کے والد سید اسد عباس بخاری چوک کمہارانوالا کی معروف امام بارگاہ ابوالفضل عباس کے متولی اور شہر کی  جانی پہچانی سیاسی و سماجی شخصیت ہیں۔خاندانی  وقار، خدمت اور دیانت داری ان کے خاندان کی پہچان رہی ہے۔ثانیہ زہرہ ایک کم عمر، نرم دل، گھریلو اور اپنے دو چھوٹے بچوں کے لیے جینے والی ماں تھیں۔ وہ نہ صرف انتہائی سادگی پسند تھیں بلکہ خاندان میں محبت، احترام اور مثبت رویّے کی علامت سمجھی جاتی تھیں۔ ان کی شادی کے بعد بھی وہ صبر، ایثار اور گھر بسانے کے جذبے پر قائم رہیں، باوجود اس کے کہ زندگی نے انہیں بار بار آزمائشوں میں ڈالا۔

ثانیہ زہرہ کے والد پہلے ہی دو بڑے صدمے جھیل چکے تھے   پہلے  بڑے بیٹے کی ناگہانی وفات اور پھر بہو کی اچانک موت ، ابھی وہ ان صدمات سے نکل ہی نہ پائے تھے کہ اب ثانیہ زہرہ کی المناک موت نے ان سمیت پورے خاندان کو توڑ کر رکھ دیا۔ لیکن اس کے باوجود، انہوں نے ہمت نہیں ہاری اور بیٹی کے انصاف کے لیے ڈٹ کر کھڑے رہے۔

ایک باوقار خاندان پر ٹوٹنے والی قیامت

ملتان کے معروف  سید خاندان کی بیٹی ثانیہ زہرہ کا قتل صرف ایک گھریلو  تنازع کا سانحہ نہیں تھا، بلکہ ظلم، جبر، لالچ اور نظامِ انصاف کے امتحان کی وہ کہانی ہے جس نے پورے ملک کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ملتان میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جانے والی مذہبی و سماجی شخصیت پہلے ہی  اپنے خاندان میں دو المناک اموات  کا صدمہ جھیل رہے  تھےاور اب آخر میں اُن کی جوان سال، حاملہ بیٹی ثانیہ زہرہ کی بے رحمانہ موت۔یہ سانحہ اُن کے خاندان کے لیے ایک زخم نہیں بلکہ مسلسل آزمائشوں کا  ایک لرزہ خیز تسلسل ثابت ہوا۔

ایک مشکوک موت نے سب کچھ بدل دیا

 جولائی کی صبح ثانیہ زہرہ کے والد کو پولیس کی کال موصول ہوئی کہ وہ فوراً بیٹی کے گھر پہنچیں، جب اہلِ خانہ وہاں پہنچے تو وہ دل دہلا دینے والا منظر اُن کے سامنے تھا ان کے دل کا ٹکڑ  ا سیدہ ثانیہ کی لاش چھت کے پنکھے سے لٹکی ہوئی ،گھٹنے زمین اور بینچ کے قریب،چہرے اور آنکھوں پر تشدد کے واضح نشانات ،جبڑا ٹوٹا ہوا،جسم پر نیل کے نشانات، ٹانگوں پر رسی کے داغ موجود تھے جن کی بعد ازاں فورینزک رپورٹس نے بھی تصدیق کردی۔

ثانیہ پانچ سے چھ ماہ کی حاملہ تھی پولیس اور ڈاکٹر کی ابتدائی رائے میں بھی کئی مشکوک پہلو سامنے آئے

فرانزک  کے ماہر نے بتایا کہ پھندا بہت آسانی سے کھل گیا، جو خودکشی کے دعوے کو کمزور کرتا ہے۔

ڈاکٹر نے تصدیق کی کہ موت تقریباً شام 6 بجے واقع ہوئی، جبکہ اطلاع صبح پولیس نے دی۔

گھر والوں کو فوراً اطلاع نہیں دی گئی، شوہر جائے وقوعہ سے فرار تھا۔

یہ تمام پہلو اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ معاملہ خودکشی نہیں بلکہ قتل کو خودکشی ثابت کرنے کی کوشش تھا۔

خاندانی پس منظر اور رشتے میں دھوکہ

تحقیقات کے دوران یہ انکشاف  بھی ہوا کہ ثانیہ کے شوہر علی رضا  جو کہ خود ایک پیر گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں نے نکاح نامے میں خود کو غیر شادی شدہ ظاہر کیا، جبکہ وہ اپنی پہلی بیوی اور دو بچوں کے ساتھ پہلے ہی شادی شدہ زندگی گزار رہا تھا۔ بعد میں اس پہلی بیوی کو بھی اسی گھر میں لا کر رکھا گیا، اور ثانیہ کو مسلسل ذہنی اور جسمانی اذیت کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔

سوتن کے موجود ہونے کے باوجود، ثانیہ نے اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر حقِ مہر کا مقدمہ واپس لے لیا، مگر یہ فیصلہ اُن کے لیے نقصان دہ ثابت ہوا، کیونکہ اس کے بعد ان پر  والد کی جائیداد حاصل کرنے کا دباؤ بڑھایا گیا۔

والد کے ایک بیان کے  مطابق، علی رضا اور اس کے خاندان کی نظر سید اسد عباس بخاری کے وراثتی اثاثوں پر تھی، اور یہی لالچ اس قتل کی بنیادی وجہ بنا۔

ثانیہ زہرہ قتل کیس میں جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم  اور اس کی تحقیقات

ثانیہ زہرہ کے والد سید اسد عباس بخاری نے مسلسل عوامی سطح پر آواز اٹھائی، میڈیا پر بات کی، عدالتوں کے چکر لگائے اور یہ مؤقف قائم رکھا کہ ان کی بیٹی کا قتل خودکشی کا کیس ہرگز نہیں ہے۔ انہی کوششوں، عوامی دباؤ، اور میڈیا کی مسلسل کوریج کے بعد پنجاب حکومت نے ایک  مشترکہ تحقیقاتی ٹیم   جے آئی ٹی کے قیام کا فیصلہ کیا اور اس جے آئی ٹی کی  کمیٹی میں  مختلف شعبوں کے ماہرین شامل تھے جن میں

فرانزک سائنس ایجنسی کے ماہرین، سینئر پولیس افسران، ویمن پروٹیکشن اتھارٹی کی چیئرپرسن، محکمۂ سماجی بہبود اور دیگر متعلقہ افسران شامل تھے اور یہ ٹیم روزانہ کی بنیاد پر پیشرفت کا جائزہ لینے کی ذمہ دار تھی۔

پولیس کارروائی، قبر کشائی اور جے آئی ٹی کی رپورٹ کے فرانزک انکشافات

 روزانہ  کی بنیاد پر کی جانے والی اس تفتیش اور نگرانی  سے اہم ثبوتوں کا انکشاف ہوا۔

اہم فرانزک ثبوت سامنے آئے

گردن پر پائے جانے والے نشانات پھندے سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔

گردن نہ تو کھنچی ہوئی تھی نہ ہی لمبی، جو کہ خودکشی کے کیسز میں عام ہوتا ہے۔

دوپٹّہ (جس سےخودکشی کرنے کا دعویٰ تھا) پر شوہر اور ساس کا ڈی این اے موجود تھا۔

ثانیہ کے ناخنوں سے ملنے والا مواد بھی شوہر کے ڈی این اے سے میچ ہوا۔

جسم پر تشدد واضح تھا اور کئی چوٹیں  دوران زندگی لگائی گئیں۔

اس طرح کے اشارے ملنے لگے کہ ثانیہ کو قتل کے بعد لٹکایا گیا۔

پنجاب کی وزیرِ اطلاعات عظمیٰ بخاری نے بھی پریس کانفرنس میں تصدیق کی کہ

یہ خودکشی نہیں، قتل ہے  بلکہ قتل کی واردات ہے قتل میں شوہر اور ساس شامل ہیں”۔”

عدالتی فیصلے: انصاف کی تاریخی پیش رفت

مورخہ 18 نومبر 2025 کو ایڈیشنل سیشن جج  ملتان محسن علی خان نے ایک اہم اور جرات مندانہ فیصلہ سنایا جس کی رو سے

 شوہر علی رضا کو پاکستان پینل کوڈ کی دفعہ 302 کے مطابق سزائے موت سنائی گئی 

ساس عذرا پروین کو عمر قید اور جرمانہ کی سزا سنائی گئی

دیور سید حیدر رضا کو عمر قید اور جرمانہ کی سزا سنائی گئی

سسر سید جیوَن شاہ  کو بری کردیا گیا

 نند  کنول بی بی کو بری کردیا گیا

یہ فیصلہ نہ صرف سید خاندان بلکہ ملتان بھر کے عوام کے لیے ایک مثال بنا کہ عدلیہ نے واضح ثبوتوں کی بنیاد پر قتل کو خودکشی دکھانے کی کوشش کو ناکام بنایا۔اس کیس میں مدعیان کی طرف سے  سردار شہریار محبوب ایڈووکیٹ اور ملزمان کی طرف سے ضیاء رندھاوا ایڈووکیٹ وکیل تھے ۔

سید اسد عباس بخاری  ایک باپ کی جدوجہد اور دنیا کے لیے رول ماڈل

سید اسد عباس بخاری نے مسلسل عدالتی کارروائی، پولیس کی طرف سے کی گئی  تاخیر اور مقتولہ کی کردار کشی کی کوششوں کے باوجود ہمت نہیں ہاری۔
انہوں نےکیس کو سوشل  اور قومی میڈیا میں اٹھایا،انصاف کے لیے مسلسل آواز بلند کی، قبرکشائی اور فرانزک ٹیسٹ کروانے کے لیے دباؤ ڈالا، اور آخر کار اپنی بیٹی کے لیے انصاف حاصل کیا۔

ایک باپ کے لیے اپنے خاندان کی تیسری موت کا صدمہ ناقابلِ بیان تھا، مگر انہوں نے یہ سانحہ اپنے دل پر سہہ کر لڑائی جاری رکھی۔

سوشل میڈیا اور عوامی ردعمل

اس کیس کے فیصلے پر پوری دنیا کے میڈیا اور  عوام  پاکستان کی نظریں تھیں  اس کیس نے  عوام الناس میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی یہ مطالبہ بلند ہوا کہ خواتین کے خلاف تشدد کے کیسز کو خودکشی  بنا کر بند نہ کیا جائے بلکہ جدید استوار پر فرانزک سائنس اور جدید تحقیق کو لازمی بنایا جائے، اور ایسے مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں اس عوامی دباؤ نے تفتیش اور عدالتی عمل کو مزید مضبوط کیا۔

انصاف کی جیت اور  ظلم کے خلاف تاریخی قدم

سیدہ ثانیہ زہرہ کا قتل ایک انتہائی دلخراش واقعہ تھا، مگر اس کیس کی مثالی تحقیقات، فرانزک شواہد، حکومتی دلچسپی، میڈیا کی کوریج اور سب سے بڑھ کر ایک باپ کی ثابت قدمی نے آخرکار انصاف کا راستہ روشن کردیا۔عدالت کے فیصلے نے واضح پیغام دیا کہ

“قاتل خواہ بڑے خاندان کا ہو یا اثر و رسوخ والا    قانون کے ہاتھ اس تک ضرور پہنچتے ہیں۔”

یہ فیصلہ ثانیہ زہرہ کے لیے انصاف کا پہلا قدم ہی نہیں بلکہ پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور عدالتی نظام کی مضبوطی کی ایک روشن مثال بھی ہے۔ اس فیصلہ نے ڈسٹرکٹ کورٹس ملتان کو اور وکلاء کو ایک عزت فراہم کی ہے کہ کوئی  مجرم قانون کی گرفت سے نہیں بچ سکتا۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *