PECA Act 2016 full text in Urdu, Prevention of Electronic Crimes Act 2016 explained in Urdu, Cybercrime laws Pakistan PECA Act 2016, PECA Act 2016 penalties and offences in Urdu, How PECA Act 2016 protects against online fraud Pakistan
|

Prevention of Electronic Crimes, PECA ACT 2016 in Urdu | الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون

The PECA Act 2016 (Prevention of Electronic Crimes Act 2016) is Pakistan’s main law for dealing with online and electronic crimes. It defines different types of cyber offences, their punishments and the process for investigation and trial. This law helps prevent and control crimes like unauthorized access to data, data theft, cyber terrorism, misuse of identity, online harassment, financial fraud, child sexual abuse material, malware attacks, spoofing, hate speech and other activities that threaten people or national security.

پیکا ایکٹ  (2016)الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون پاکستان کا بنیادی اور جامع سائبر قانون ہے جو ڈیجیٹل دور میں بڑھتے ہوئے جرائم کو قابو کرنے، عوام کے ڈیجیٹل حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے اور قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے لیے مرتب کیا گیا۔ یہ قانون نہ صرف پاکستان کی حدود میں ہونے والی سرگرمیوں پر نافذ ہوتا ہے بلکہ دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود پاکستانی شہریوں  کی ڈیجیٹل سرگرمیوں اور ان سے متعلق جرائم پر بھی لاگو ہوتا ہے۔

اس قانون میں ڈیجیٹل معلومات و  الیکٹرونک ڈیٹا، انفارمیشن سسٹمز، ڈیجیٹل ثبوت، غیر مجاز رسائی، سسٹم میں مداخلت اور دیگر اہم اصطلاحات کی جامع تعریفیں فراہم کی گئی ہیں۔ مزید برآں، اس ایکٹ  میں مختلف نوعیت کے سائبر جرائم،جیسےمعلومات یا ڈیٹا کی چوری، فراڈ، سائبر دہشت گردی، آن لائن ہراسانی، فحش مواد، شناخت کی چوری، اسپوفنگ، اسپامنگ، مالیاتی جرائم اور  دیگراہم قومی انفراسٹرکچر پر حملوں کے جرائم کے لیے واضح سزائیں مقرر کی گئی ہیں۔

 الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون نہ صرف جرائم اور سزاؤں کا تعین کرتا ہے بلکہ تحقیقاتی اداروں کے اختیارات، اہم معلومات کے تحفظ، عالمی تعاون، خصوصی عدالتوں کے قیام، اپیل کے حقوق اور حکومتی اختیارات کے تسلسل کو بھی قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے، جس سے یہ قانون پاکستان میں ڈیجیٹل نظم و ضبط کے لیے ایک مضبوط فریم ورک بن جاتا ہے۔

PECA Act 2016 sections and rules in Urdu, PECA Act 2016 legal guide for Pakistan, Understanding PECA Act 2016 online harassment laws, PECA Act 2016 child protection and cybercrime, PECA Act 2016 unauthorized access penalties in Urdu

باب اول 

سیکشن 1 : مختصر عنوان، دائرہ کار اور آغاز

یہ قانون الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون پیکا ایکٹ  2016  کہلائے گا۔

یہ پورے پاکستان میں نافذ ہوگا۔

یہ قانون پاکستانی شہریوں پر دنیا میں جہاں کہیں بھی ہوں لاگو ہوگا۔

پاکستان سے باہر ہونے والا ایسا جرم جو پاکستان کے کسی شہری یا نظام پر اثر ڈالے، اس پر بھی یہ قانون لاگو ہوگا۔

یہ قانون فوری نافذ العمل ہوگا۔

سیکشن 2: تعریفات

اہم اصطلاحات کے معنی

ایکٹ:  کوئی ایسا عمل یا سلسلہ جو اس قانون کی خلاف ورزی ہو۔

ڈیٹا:  معلومات، ویڈیوز، آڈیو، کوڈ وغیرہ ۔

 انفارمیشن سسٹم:  کوئی بھی الیکٹرانک سسٹم جس سے معلومات کا حصول ممکن ہو۔

غیر مجاز رسائی:  بغیر اجازت ڈیٹا یا سسٹم میں داخل ہونا۔

باب دوم: جرائم اور سزائیں

سیکشن 3: غیر مجاز رسائی

بغیر اجازت انفارمیشن سسٹم میں داخل ہونا
سزا:  3 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 4: غیر مجاز ڈیٹا کاپی یا ترسیل

بغیر اجازت ڈیٹا منتقل کرنا
سزا: 6  ماہ قید یا 1 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 5: انفارمیشن سسٹم میں مداخلت

معلومات یا ڈیٹا کو نقصان پہنچانا، تبدیلی کرنا  یا بگاڑنا
سزا:  2 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 6: اہم قومی ڈیٹا تک غیر مجاز رسائی

قومی سطح  کی معلومات تک بغیر اجازت   کے غیر قانونی طور پر رسائی 

سزا: 3  سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 7: اہم قومی ڈیٹا کی غیر قانونی ترسیل

قومی سطح کی معلومات تک غیر قانونی طریقے سے رسائی اور پھر اس کا غیر قانونی طور پر ترسیل یا پھیلاؤ

سزا:  5 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 8: اہم قومی نظام کو نقصان

گورنمنٹ کے کسی بھی نظام کو نقصان پہنچانا

سزا: 7 سال قید یا 1 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 9: دہشت گردی کو فروغ دینا

کسی بھی  تشہیری عمل کے ذریعے  دہشت گردی کی سرگرمیوں کو فروغ دینا

سزا: 7 سال قید یا 1 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 10: سائبر دہشت گردی

ریاست، عوام یا اداروں کو نقصان پہنچانے کے لیے سائبر حملہ یا دہشت گردی کرنا

سزا:  14 سال قید یا 5 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 11: نفرت انگیز تقریر

نفرت انگیز تقریر کا کرنا جس سے  معاشرے میں بگاڑ یا تناؤ  کا خدشہ پیدا ہو

سزا: 7 سال قید یا جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 12: دہشت گردی کے لیے بھرتی،مالی امداد یا منصوبہ بندی کرنا

دہشت گردی کیلئے کسی کو فنڈنگ کرنا، منصوبہ بندی کرنا یا افراد کو بھرتی کرنا

سزا:  7 سال قید یا جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 13: الیکٹرانک جعلسازی

جو کوئی غلط نیت کے ساتھ  الیکڑونک ڈیوائسز کا جعلی استعمال کرکے کسی کی رقم ہتھیانے یا دھوکہ دہی کیلئے یا تعلقات بنانے میں استعمال کرے

سزا: 3 سال قید یا 2.5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 14: الیکٹرانک فراڈ

جو کوئی کسی  الیکڑونک ڈیوائسز کا استعمال کرکے کسی کے ساتھ رقم کا ، تعلقات کا یا دیگر کسی غیر قانونی فعل کا دھوکہ کرے

سزا: 2 سال قید یا 1 کروڑ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 15: جرم میں استعمال ہونے والے آلات کی تیاری

جو کوئی جرائم میں استعمال ہونے والی ڈیوائسز یا مشین یا نظام کی تیاری کرے ، ان کی برآمد یا درآمد کرے اس ایکٹ کے تحت جرم کا مرتکب ہوگا

سزا: 6 ماہ قید یا 50 ہزار روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 16: شناختی معلومات کا غلط استعمال

جو کوئی کسی شخص کی شناختی معلومات کو کسی غیر قانونی طریقہ سے حاصل کرے ، اس کا غلط استعمال کرے، کسی کو بیچے یا اس کی تشہیر کرے اس ایکٹ کے تحت جرم کا مرتکب ہوگا

سزا: 3 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 17: جعلی سمز فروخت کرنا

جو کوئی بھی سم  کارڈ، ری یوزایبل آئیڈینٹیفیکیشن ماڈیول، یونیورسل انٹیگریٹڈ سرکٹ کارڈ یا اس نوعیت کا کوئی اور ماڈیول جو صارف کی شناخت کی تصدیق اور نیٹ ورک سے رابطہ قائم کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے اور جو موبائل فون، وائرلیس فون یا دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز جیسے ٹیبلیٹس میں استعمال ہو، اگر کوئی شخص یہ چیزیں اتھارٹی کی طرف سے منظور شدہ طریقہ کار کے مطابق صارف کی شناخت کی تصدیق  کیے بغیر فروخت کرے یا فراہم کرے تو وہ شخص اس جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا: 3 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 18: موبائل کے آئی ایم ای آئی میں تبدیلی

جو کوئی بھی غیر قانونی طور پر یا بغیر اجازت کسی کمیونیکیشن آلات جس میں موبائل فون، سیلولر یا وائرلیس ہینڈ سیٹ بھی شامل ہیں کےمنفرد ڈیوائس کی شناخت  کو تبدیل کرے، اس میں رد و بدل کرے، چھیڑ چھاڑ کرے یا اسے دوبارہ پروگرام یا ری رائٹ  کرے،
اور پھر ایسے تبدیل شدہ ڈیوائس کو استعمال میں  لانایا فروخت کرنا شروع کر دے تاکہ وہ معلومات بھیجنے یا وصول کرنے کے قابل ہو جائے،
تو وہ شخص اس جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا: 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 19: غیر قانونی انٹرسیپشن

جو کوئی بھی بددیانتی کے ارادے سے تکنیکی طریقے استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی انٹرسیپشن کرے، یعنی  ایسی کسی ترسیل  کو پکڑے یا اسے روک لے جو عوام کے لیے نہ ہو، اور عوام کے لیے کھلی نہ ہو، اور جو کسی انفارمیشن سسٹم کے اندر یا اس سے باہر بھیجی جا رہی ہو، یا  کسی انفارمیشن سسٹم سے نکلنے والی الیکٹرو میگنیٹک شعاعوں کو پکڑ لے جو ڈیٹا لے کر جا رہی ہوںتو ایسا شخص اس جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا: 2 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 20: عزت و وقار پر حملہ

 جو کوئی شخص جان بوجھ کر اور عوامی طور پر کسی بھی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ایسی معلومات نمائش کرے، دکھائے یا نشر کرے
جو اسے معلوم ہو کہ جھوٹی ہیں اور اس کا مقصد کسی شریف شہری  کی شہرت یا اس کی پرائیویسی کو نقصان پہنچانا یا اسے خوفزدہ کرنا ہو،
تو وہ شخص اس جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا: 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 21: خواتین اور بچوں کی فحش ویڈیوز

جو کوئی شخص جان بوجھ کر  عوام الناس کو  ایسی معلومات دکھائے، نشر کرے یا منتقل کرے جو کسی  خاتون ، بچے یا شخص کے چہرے کی تصویر کو کسی جنسی طور پر واضح تصویر یا ویڈیو پر اوورلے کرے، کسی شخص کی تصویر یا ویڈیو کو جنسی عمل میں شامل کرے، کسی شریف شخص کو کسی جنسی عمل یا جنسی طور پر واضح تصویر/ویڈیو کے ذریعے ڈرا دھمکا کرے، کسی شخص، بچے، مرد یا عورت  کو جنسی عمل میں ملوث کرنے کے لیے بہکائے، راغب کرے یا مجبور کرے،اور اس کا مقصد اس شخص کی شہرت کو نقصان پہنچانا، انتقام لینا، نفرت پیدا کرنا یا بلیک میل کرنا ہوتو وہ شخص اس  ایکٹ کے تحت جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا: 5 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں (بچوں کے معاملے میں 7 سال قید)۔

سیکشن 22: بچوں کا فحش مواد بنانا یا تقسیم کرنا

جو کوئی شخص جان بوجھ کر بچوں کو جنسی طور پر واضح   ننگی حالت میں دکھانے والا مواد تیار کرے،اشاعت  کرے، دستیاب کرے، تقسیم کرے یا منتقل کرے،یا خود کے لیے یا کسی اور کے لیے ایسے مواد کو حاصل کرے،یا بغیر قانونی وجہ کے ایسے مواد کا مالک ہو، اور یہ مواد بصری طور پر دکھائے،(ا) کسی نابالغ کو جنسی عمل میں،(ب) کسی ایسے شخص کو جو نابالغ دکھائی دیتا ہو اور جنسی عمل میں ہو، (ج) ایسے حقیقت نما  تصاویر جو نابالغ کو جنسی عمل میں دکھائیں، (د) نابالغ کی شناخت ظاہر کرے، تو یہ شخص اس جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا:  7 سال قید یا 50 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں

سیکشن 23: وائرس یا میلویئر تیار کرنا

جو بھی شخص جان بوجھ کر اور بغیر اجازت کسی انفارمیشن سسٹم یا ڈیجیٹل ڈیوائس کے ذریعے نقصان دہ کوڈ لکھے ،میلوئیر یا وائرس بنائے، پیش کرے، دستیاب کرے، تقسیم کرے یا منتقل کرے، اور اس کا مقصد ہو کہ کسی انفارمیشن سسٹم یا ڈیٹا کو نقصان پہنچایا جائے، جیسے کہ تباہی، بگاڑ، تبدیلی، دباؤ، چوری یا نقصان،تو یہ شخص اس جرم کا مرتکب ہوگا۔

سزا:  2 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 24: سائبر اسٹاکنگ

سائبر ہراسانی کا جرم تب ہوتا ہے جب کوئی شخص، کسی کو دھمکانے، مجبور کرنے یا ہراساں کرنے کے ارادے سے، انفارمیشن سسٹم، انٹرنیٹ، ویب سائٹ، ای میل یا کسی اور الیکٹرانک ذرائع کے ذریعے درج ذیل کام کرے،

کسی شخص کا پیچھا کرنا یا اسے بار بار رابطہ کرنے کی کوشش کرنا، باوجود اس کے کہ وہ واضح طور پر عدم دلچسپی ظاہر کر چکا ہو۔

کسی شخص کے انٹرنیٹ، ای میل، ٹیکسٹ میسج یا کسی دوسرے الیکٹرانک ذرائع کے استعمال کی نگرانی کرنا۔

کسی شخص کی جاسوسی یا نگرانی کرنا جس سے اسے جان کا خطرہ  تشدد کا خوف، شدید پریشانی یا ذہنی تکلیف ہو۔

کسی شخص کی تصویر یا ویڈیو بنانا اور اس کی رضامندی کے بغیر اسے دکھانا یا شیئر کرنا، جس سے اس کی شخصیت یا وقار متاثر ہو۔

سزا: 3 سال قید یا 10 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 25: اسپامنگ

اسپیم بھیجنے کا جرم تب ہوتا ہے جب کوئی شخص، کسی شخص کی اجازت کے بغیراسے کسی بھی قسم کی معلومات بھیجے جو کہ نقصان دہ، دھوکہ دینے والی، گمراہ کن، غیر قانونی یا غیر مطلوبہ ہوں، یا کسی انفارمیشن سسٹم کے ذریعے ایسی معلومات دکھائے تاکہ ناجائز فائدہ حاصل کیا جا سکے۔

سزا: 3 ماہ قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

سیکشن 26: اسپوفنگ 

سپوفنگ کا جرم تب  ہوتا ہے جب کوئی شخص بدنیتی کے ارادے سے کوئی ویب سائٹ بناتا ہے یا کسی بھی معلومات کو اصل  ذریعہ ظاہر کر کے بھیجتا ہے، تاکہ وصول کنندہ یا ویب سائٹ کے وزیٹر کو یہ یقین دلایا جا سکے کہ یہ حقیقی اور مستند ذریعہ ہے یعنی جعلی ویب سائٹ یا ای میل بنانا

سزا: 3 سال قید یا 5 لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں۔

باب سوم: تحقیقات

سیکشن 29: تحقیقاتی ادارے کا قیام

وفاقی حکومت تحقیقاتی ادارہ بنائے گی۔

سیکشن 30: تفتیش کا اختیار

صرف مجاز افسران کو تفتیش کا اختیار ہوگا۔

سیکشن 31: ڈیٹا محفوظ کرنے کا حکم

تحقیقاتی ضرورت کے لیے 90 دن تک ڈیٹا محفوظ کرنے کا حکم دیا جا سکتا ہے۔

سیکشن 32: ٹریفک ڈیٹا کی حفاظت

سروس پروائیڈر 1 سال تک ٹریفک ڈیٹا محفوظ رکھے گا۔

سیکشن 33: سرچ وارنٹ کا طریقہ کار

عدالتی حکم کے بغیر کسی کا ڈیٹا ضبط نہیں کیا جا سکتا۔

باب چہارم: بین الاقوامی تعاون

سیکشن 42: عالمی تعاون

وفاقی حکومت دیگر ممالک اور عالمی اداروں سے معلومات کا تبادلہ کر سکتی ہے۔

باب پنجم: مقدمات اور ٹرائل

سیکشن 43: مقدمات کا اندراج اور سماعت

خصوصی عدالتیں مقدمات سنیں گی۔

سیکشن 45: متاثرہ فریق کو معاوضہ

عدالت متاثرہ فریق کو معاوضہ دینے کا حکم دے سکتی ہے۔

سیکشن 47: اپیل کا حق

کسی عدالت کے حتمی فیصلے یا حکم کے خلاف اپیل اس تاریخ سے تیس دنوں کے اندر دی جا سکتی ہے جب فیصلے کی تصدیق شدہ کاپی فراہم کی گئی ہو، اور یہ کاپی مفت ہونی چاہیے۔اپیل درج کرنے کی عدالتیں   اگر فیصلہ سیشنز کورٹ نے دیا ہو تو متعلقہ ہائی کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔اگر فیصلہ مجسٹریٹ نے دیا ہو تو متعلقہ سیشنز کورٹ میں اپیل کی جا سکتی ہے۔عدالت کے فیصلے کے خلاف 30 دن میں اپیل کی جا سکتی ہے۔

باب ششم: روک تھام کے اقدامات

سیکشن 48: حفاظتی اقدامات

وفاقی حکومت یا متعلقہ اتھارٹی (جیسا معاملہ ہو) ہدایات جاری کر سکتی ہے جو مخصوص انفارمیشن سسٹمز یا سروس پرووائیڈرز کے مالکان کو لازمی طور پر ماننی ہوں، تاکہ اس ایکٹ کے تحت کسی بھی جرم کی روک تھام کی جا سکے۔اگر کوئی انفارمیشن سسٹم کا مالک، جو اتھارٹی کا لائسنس ہولڈر نہ ہو، ان ہدایات کی خلاف ورزی کرے،پہلی بار خلاف ورزی پر زیادہ سے زیادہ دس لاکھ روپے جرمانہ ہو سکتا ہے۔اگر دوبارہ خلاف ورزی ہوئی تو سزا چھ ماہ قید، یا جرمانہ، یا دونوں ہو سکتے ہیں۔اگر خلاف ورزی اتھارٹی کے لائسنس ہولڈر نے کی ہو،یہ خلاف ورزی لائسنس کی شرائط و ضوابط کی خلاف ورزی تصور ہوگی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن (ری آرگنائزیشن) ایکٹ 1996 کے تحت اس کا تعاقب کیا جائے گا۔قومی سیکیورٹی کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی مطلب حکومت اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی  حفاظتی ہدایات جاری کر سکتے ہیں۔

سیکشن 49: کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز

وفاقی حکومت ایک یا  ایک سے زائد کمپیوٹر ایمرجنسی ریسپانس ٹیمز قائم کر سکتی ہے تاکہ پاکستان میں کسی بھی اہم انفراسٹرکچر، انفارمیشن سسٹمز یا اہم ڈیٹا پر ہونے والے خطرات یا حملوں کا فوری جواب دیا جا سکے، یا اگر انفارمیشن سسٹمز پر وسیع پیمانے پر حملہ ہو۔یہ ٹیمز ماہر افراد پر مشتمل ہوں گی جانچے پرکھے  ہوئے ماہر افسران، کسی بھی انٹیلیجنس یا متعلقہ ایجنسی کے ماہر، یا دیگر متعلقہ ماہرین شامل ہوسکتے ہیں۔اور ان کے کام کرنے کا طریقہ میں شامل ہے  کہ  ایمرجنسی ٹیم کسی بھی خطرے یا حملے کے جواب میں کام کرے گی،بغیر غیر ضروری رکاوٹ یا نقصان پہنچائے،تاکہ انفارمیشن سسٹمز یا ڈیٹا تک رسائی اور استعمال متاثر نہ ہو۔

باب ہفتم: عمومی امور

سیکشن 50: دیگر قوانین سے مطابقت

اس ایکٹ کی دفعات پاکستان پینل کوڈ 1860، ضابطہ فوجداری  1898، قانون شہادت 1984 ، پروٹیکشن آف پاکستان ایکٹ 2014، اور انویسٹی گیشن فار فیئر ٹرائل ایکٹ 2013 سمیت دیگر متعلقہ قوانین پر اثر رکھیں گی۔اس کے علاوہ، اگر کوئی اور قانون اس موضوع پر کچھ مختلف کہتا ہو، تو  پیکا ایکٹ  کی دفعات اس سے بالاتر ہوں گی جب تک کہ یہ قانون نافذ العمل ہے۔یہ قانون پاکستان پینل کوڈ اور دیگر متعلقہ قوانین کے ساتھ نافذ ہوگا۔

سیکشن 51: رولز بنانے کا اختیار

وفاقی حکومت سرکاری گزٹ میں نوٹیفکیشن جاری کر کے اس ایکٹ کے مقصد کو پورا کرنے کے لیے قواعد بنا سکتی ہے۔

خاص طور پر، یہ قواعد درج ذیل امور کو واضح کر سکتے ہیں 

تفتیشی ادارے اور پراسیکیوٹرز کے افسران اور عملے کی قابلیت اور تربیت۔

تفتیشی ادارے اور اس کے افسران، پراسیکیوٹرز کے اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں۔

تفتیشی ادارے کے معیاری عملی طریقہ کار۔

اس ایکٹ کے تحت تفتیش کا ریکارڈ کیسے برقرار رکھا جائے۔

ضبط شدہ ڈیٹا، انفارمیشن سسٹمز، آلات یا دیگر اشیاء کے ساتھ برتاؤ۔

مشترکہ تفتیشی ٹیموں کا کام کرنے کا طریقہ۔

کسی بھی شخص کی جانب سے کسی مواصلاتی آلے کے یونیک ڈیوائس آئی ڈی میں تبدیلی یا ری پروگرامنگ کے لیے اتھارٹی سے اجازت لینے کے اصول۔

اس ایکٹ کے تحت معلومات کو ہٹانے، تباہ کرنے یا بلاک کرنے کے لیے اتھارٹی سے حکم حاصل کرنے کا طریقہ۔

کمپیوٹر ایمرجنسی رسپانس ٹیم کی تشکیل اور اس کے لیے معیاری عملی طریقہ کار۔

حقیقی وقت کی معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھنے والے مخصوص ادارے کی تقرری۔

تفتیشی ادارے اور دیگر قانون نافذ کرنے والے یا انٹیلی جنس اداروں کے ساتھ تعاون اور رابطے کا طریقہ۔

فارنزک لیبارٹری کے انتظام اور نگرانی کے اصول۔

فارنزک لیبارٹری کے افسران، ماہرین اور عملے کی قابلیت اور تربیت۔

فارنزک لیبارٹری کے اختیارات، فرائض اور ذمہ داریاں۔

فارنزک لیبارٹری کے معیاری عملی طریقہ کار برائے تفتیشی ادارے کے ساتھ تعامل۔

بین الاقوامی تعاون حاصل کرنے اور بڑھانے کا طریقہ کار۔

دیگر متعلقہ یا ضمنی امور۔

وفاقی حکومت اس قانون پر عمل درآمد کے لیے رولز بنا سکتی ہے۔

سیکشن 52: مشکلات کا حل

اگر اس ایکٹ کے نفاذ میں کوئی مشکل پیش آئے تو وفاقی حکومت،اس ایکٹ کے آغاز کے دو سال کے اندر، سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے حکم کے ذریعے،ایسے اقدامات کر سکتی ہے جو اس ایکٹ کی دفعات کے ساتھ مطابقت رکھتے ہوئے مسئلے کو دور کرنے کے لیے ضروری ہوں۔کسی مسئلے کی صورت میں حکومت خصوصی حکم جاری کر سکتی ہے۔

سیکشن 53: پارلیمنٹ کو رپورٹ

تحقیقاتی ادارہ ہر 6 ماہ بعد پارلیمنٹ کو رپورٹ دے گا۔

سیکشن 54: الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈیننس 2002 کی تنسیخ اور زیر التواء کارروائیوں کا تحفظ

 تنسیخ

الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈیننس 2002 کی درج ذیل دفعات کو اس قانون کے نفاذ کے ساتھ منسوخ کر دیا گیا ہے

وہ تمام دفعات جو اس قانون  پیکا ایکٹ سے متصادم ہیں یا ان کا موضوع اس قانون کے تحت شامل کیا جا چکا ہے۔

 زیر التواء کارروائیاں

اگر الیکٹرانک ٹرانزیکشنز آرڈیننس 2002 کے تحت کوئی کارروائی پہلے سے شروع ہو چکی ہو یا کوئی معاملہ زیر سماعت ہو، تو وہ کارروائی یا معاملہ اسی قانون  پیکا ایکٹ کے تحت جاری رہے گا اور اسے اس قانون کے مطابق نمٹایا جائے گا۔

سیکشن 55: حکومتی اختیارات کا تحفظ

 حکومتی اداروں کے قانونی اختیارات محفوظ

اس قانون کے کسی بھی حصہ یا شق کو اس طرح نہیں پڑھا جائے گا کہ وہ حکومت کے کسی بھی مجاز ادارے کے پہلے سے موجود یا قانونی اختیارات کو محدود یا ختم کر سکے۔

 حسن نیت پر مبنی اقدامات کا تحفظ

اگر حکومت کے کسی ادارے یا افسر نے اس قانون یا کسی دوسرے قانون کے تحت حسن نیت سے کوئی کارروائی کی ہو تو اس پر کوئی فوجداری یا دیوانی کارروائی نہیں ہوگی، بشرطیکہ وہ کارروائی قانون کے دائرے میں ہو۔

لب لباب

الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کا قانون پاکستان کے سائبر نظام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ قانون نہ صرف جدید ڈیجیٹل خطرات کی نشاندہی کرتا ہے بلکہ ان کےتدارک کے لیے ایک مکمل قانونی ڈھانچہ بھی فراہم کرتا ہے۔ مختلف نوعیت کے سائبر جرائم پر سخت سزائیں، تحقیقاتی اداروں کے واضح اختیارات، بین الاقوامی رابطے، خصوصی عدالتیں، اور متاثرہ فریق کے لیے معاوضے کا نظام اس قانون کو مؤثر اور قابلِ عمل بناتے ہیں۔

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *