cyber crime in pakistan
|

Cyber Crimes in Pakistan 2025 | NCCIA – PECA Act Updates | Online Complaint Portal

Cyber crimes in Pakistan 2025 continues to rise, leading to stronger action under the PECA Act 2025. The new National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA Pakistan) now handles cases of online fraud, cyber harassment, data theft, and digital blackmail. Citizens can report offences via the Cyber Crime Helpline 9911 or the NCCIA Online Complaint Portal. This guide explains Pakistan’s latest cyber laws, complaint process, and digital safety measures to help you stay protected online.

آج 2025 میں جب دنیا ڈیجیٹل انقلاب کے عروج پر ہے، اے آئی (آرٹیفیشل انٹیلیجنس )، سوشل میڈیا، اور آن لائن خرید و فروخت  نے انسانی زندگی کو آسان تو ضرور بنایا ہے، مگر اسی رفتار سے سائبر کرائمز نے بھی خطرناک شکل اختیار کر لی ہے۔پاکستان میں پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016  پیکا ایکٹ کے تحت سائبر جرائم کی روک تھام کا باقاعدہ قانونی ڈھانچہ موجود ہے۔ ماضی میں ان جرائم کی تفتیش ایف آئی اے کا سائبر کرائم وِنگ کرتا تھا، تاہم بڑھتے ہوئے جرائم اور جدید ٹیکنالوجی کے تقاضوں کے پیشِ نظر اب حکومتِ پاکستان نے ایک نیا ادارہ قائم کیا ہے جسے نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کہا جاتا ہے۔قانونی راہ اس بارے وکلاء اور عوام الناس کو بہترین اور جدید معلومات فراہمی کا عزم رکھتی ہے تاکہ قومی زبان میں اس کو بہتر اور آسان طریقے سے سمجھا جا سکے۔

(NCCIA for Cyber Crimes in Pakistan)  نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی

پہلے پاکستان میں سائبر کرائمز کی تفتیش   ایف آئی اے کے سائبر کرائم ونگ کے زیرِ انتظام  ہوتی تھی، جو کہ   پیکا ایکٹ 2016کے تحت کام کرتا تھا۔لیکن ٹیکنالوجی کے تیز  پھیلاؤ اور جرائم کے بدلتے ہوئے جدید انداز نے حکومت کو ایک مکمل آزاد سائبر ایجنسی بنانے پر مجبور کیا۔
اب تمام بڑے سائبر کیسز (آن لائن بلیک میلنگ، ڈیٹا لیک، فراڈ، ہیکنگ، کرپٹو اسکیمز وغیرہ) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی   کے تحت درج اور تفتیش کیے جاتے ہیں اس نیشنل ایجنسی کا دائرہ اختیار پورے پاکستان میں ہے، جبکہ صوبائی سطح پر ڈائریکٹوریٹس قائم کیے گئے ہیں۔

(NCCIA Pakistan) نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کا قیام

این سی سی آئی اے  کا قیام حکومتِ پاکستان نے پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ، پیکا ایکٹ 2016 کی ترمیم 2025 کے تحت عمل میں لایا،یہ ادارہ ایف آئی اے کے سابق سائبر کرائم وِنگ کی جگہ پر کام کررہا ہے اور اسے ڈیجیٹل فارنزک، تکنیکی تحقیقات، انفارمیشن سسٹم آڈٹ، نیٹ ورک فرانزکس اور موبائل ڈیٹا انویسٹی گیشن میں خصوصی مہارت حاصل ہے، یعنی یہ ادارہ مکمل ٹیکنالوجی سے مزین ہے۔

 (Purpose of  NCCIA) این سی سی آئی اے کا مقصد 

جدت اور موثر ٹیکنالوجی سے آراستہ اس ادارے کا مقصد پاکستان کو ایک محفوظ ڈیجیٹل ریاست میں تبدیل کرنا، جہاں شہری اعتماد کے ساتھ دنیا کے ساتھ اپنے کاروبار،سروسز اور انٹرنیٹ استعمال کریں اور سائبر خطرات سے محفوظ رہیں۔اس ادارے کے اہم مقاصد میں سائبر کرائمز کی مؤثر روک تھام، ان کی تحقیق و تفتیش، اور عوامی آگاہی کے ذریعے ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول قائم کرنا۔
یہ ایجنسی جدید سافٹ ویئرز پر مشتمل انویسٹی گیشن سسٹمز، اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے پاکستان میں بڑھتے ہوئے آن لائن جرائم پر قابو پانے کے لیے کام کر رہی ہے۔

(Modern Types of Cyber Crimes 2025)  سائبر کرائمز کی جدید اقسام

ڈیجیٹل دور کے نئے چیلنجز نے سائبر کرائمز کی اقسام میں نمایاں اضافہ کیا ہےجیسے

(Deepfake Crimes in Pakistan) ڈیپ فیک  جرائم


مصنوعی ذہانت  یعنی اے آئی کے ذریعے جعلی ویڈیوز، آڈیوز یا تصاویر بنانا جو اصلی معلوم ہوں ، یہ بلیک میلنگ ، دھوکہ دہی اور پروپیگنڈا کے نئے حربے کے طور پر سامنے آئے ہیں، جہاں دنیا بھر میں اس ٹیکنالوجی کا غلط استعمال ہوا ہے ، وہیں پاکستان میں بھی اس ٹیکنالوجی کے جرائم بہت بڑی تعداد میں سامنے آئے ہیں اسی وجہ سے اس ادارے کا قیام ممکن میں لایا گیا تاکہ جرائم پیشہ افراد کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی جاسکے۔

  (Cyber Financial Frauds in Pakistan) آن لائن فنانشل فراڈ

پاکستان میں بھی باقی دنیا کی طرح ، موبائل اور کمپیوٹر کی جعلی ایپلیکیشنز، واٹس ایپ،فیس بک،مائیکرو لون پلیٹ فارمز ،قرضے کا لالچ،انعامی لالچ،جعلی قرعہ اندازی،بنک اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات  تک رسائی ، بیرون ملک ویزہ کی فراہمی،  روزگار کا لالچ اور ای کامرس ویب سائٹس کے ذریعے عوام سے لاکھوں روپے کا فراڈ بہت بڑی تعداد میں  کیا جارہا ہے۔

(Data Theft Crimes in Pakistan)  معلومات چوری اور فروخت کرنا

سرکاری و نجی اداروں کے ڈیٹا کومختلف اقسام کی ٹیکنالوجی،ایپس ،ویب سائٹس، ای میل لنکس اور وائرس کے ذریعے  ہیک کر کے اس کی اہم معلومات ،راز،تصاویر یا ویڈیوز کو چرانا اسے غیر قانونی مقاصد کیلئے استعمال میں لانا،فائدہ اٹھانا یا اسے ڈارک ویب پر بیچنا ایک بہت بڑا جرم ہے۔چوری شدہ ڈیٹا میں صرف تصاویر،ریکارڈنگز ہی نہیں فروخت ہوتیں بلکہ مختلف سٹرکچرز،تحریری معلومات اور اہم دستاویزات بھی فروخت  ہوتی ہیں۔ 

  (Cyber ​​Terrorism in Pakistan)  سائبر دہشت گردی

ریاستی اداروں یا حساس نظاموں کو ہیک (آن لائن قبضہ) کر کے دھمکانا ،نقصان پہنچانا،ان میں کوئی ردوبدل کرنا،ضائع کرنا اور اداروں میں  خوف و ہراس پھیلانا، سائبر دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے جو کہ پاکستان میں متعدد بار پیش آچکے ہیں، جن پر ریاست خطرناک ردعمل ظاہر کرتی ہے اور ملزمان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی۔

 (Cryptocurrency Fraud Cases) کرپٹو کرنسی فراڈ

جعلی آن لائن ٹریڈنگ  یعنی خرید و فروخت  اور  کرپٹو   کرنسی فراڈ کے ذریعے سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینا ، کرپٹو کرنسی نے جہاں سرمایہ کاری کے نئے دروازے کھولے مگر پاکستان میں اس کی غیر قانونی حیثیت اور قوائد و ضوابط کی کمی نےدھوکہ کو عام کیا،  سال 2022 میں بائنانس سے منسلک 11 ایپس کے ذریعے 18 ارب روپے کا دھوکہ ہوا، مشہور ٹی وی سٹار،  وقار ذکا پر 86 ملین روپے کے فراڈ کا مقدمہ چلا، اور اس کے علاوہ دیگر بھی مقدمات درج ہوئے ، اب پاکستان کرپٹو کونسل ریگولیشن کی تیاری کر رہی ہے، مگر فی الحال احتیاط، تصدیق شدہ پلیٹ فارمز کا استعمال  ہی بچاؤ کا واحد راستہ ہے۔

 (Modern Forensic Units in Pakistan) جدید فرانزک یونٹس 

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے پاکستان میں پہلی بار سائبر تحقیقات کے لیے چار اہم فرانزک یونٹس قائم کیے ہیں جن کی تفصیل درج ذیل ہے۔

 (Computer Forensic Unit by NCCIA ) کمپیوٹر فرانزک یونٹ

ایجنسی  کا جدید کمپیوٹر فرانزک یونٹ دور جدید کی ،ڈیجیٹل اسٹوریج ڈیوائسز، نیٹ ورکس ،کمپیوٹرز، اور سرورز،آئی پی سے شواہد اکٹھے کرتا ہے اور اسے اپنی تفتیشی معاملات کو آ گے بڑھانے کیلئے استعمال میں لاتا ہے۔

 (Mobile Forensic Unit by NCCIA) موبائل فرانزک یونٹ

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی  کا  جدید ٹیکنالوجی سے آراستہ اسمارٹ فونز  جیسی ہمہ قسم ڈیوائسز جیسے ٹیبلٹس ،آئی پیڈز اور دیگر موبائل ڈیوائسز سے ڈیٹا ریکوری، چیٹس،فرانزک آڈٹ،آئی  ایم ای آئی  اور لوکیشن ٹریسنگ کرنے جیسی خصوصیات  کی حامل ہیں،جن سے جرائم کرنے والوں کی نشاندہی میں بہترین مدد ملتی ہے۔

 (Audio/Video Forensic Unit by NCCIA) آڈیو/ویڈیو فرانزک یونٹ

پاکستان میں آڈیو/ویڈیو فرانزک یونٹس جرائم کی تحقیقات اور عدالتی شواہد کے لیے اہم ہیں ،یہ یونٹس آڈیو کے شور کو کم کرنے اور اس میں شفافیت لانے، ویڈیو کی اصلیت کی تصدیق، چہرے کی شناخت اور فریم بائی فریم گہرائی تک کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، حالیہ کیسز جیسے 9 مئی  کے واقعات اور بھارتی دہشت گردی کی آڈیو ٹیپ کی فرانزک سے ان کی اہمیت ثابت ہوئی ۔یہ یونٹس جعلی میڈیا کی فائلوں اور معلومات کی تصدیق کی خصوصیت رکھتے ہیں۔

 (Network Forensic Unit of  NCCIA) نیٹ ورک فرانزک یونٹ

پاکستان میں نیٹ ورک فرانزک یونٹ سائبر جرائم، دہشت گردی اور ڈیجیٹل حملوں کی تحقیقات کے لیے اہم ہیں نیٹ ورک ٹریفک، ای میل ریکارڈز، اور ہیکنگ کے ذرائع کی تکنیکی تفتیش کیلئے یہ یونٹ بہت اہمیت رکھتاہے۔نیشنل ایجنسی کے یہ یونٹس جدید عالمی معیار کے سافٹ  ویئرز سے لیس ہیں اور بین الاقوامی سائبر انویسٹی گیشن اداروں کے ساتھ تعاون بھی کر رہے ہیں، جو ایک نہایت ہی قابل فخر بات ہے۔

 (Latest Provisions in PECA ACT) پیکاایکٹ  کی ترامیم میں نئی شقیں

،پیکا ایکٹ 2016 میں  سال  2025 کے دوران چند اہم ترامیم کی گئی ہیں، جن میں شامل ہیں

 (Fake News Punishment Peca Act)  جعلی خبریں   

پاکستان میں جعلی خبر  یعنی فیک نیوز پر نئی قانون سازی کے تحت پیکا (ترمیمی) ایکٹ 2025 نافذ ہو گیا ہے، جس میں جان بوجھ کر جعلی خبریں یا غلط معلومات پھیلانے والوں کو تین سال قید یا 20 لاکھ روپے جرمانہ تک  کی سزا ہو سکتی ہے۔ ڈیجیٹل رائٹس پروٹیکشن اتھارٹی (ڈی آر پی اے) کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے  جو سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کی نگرانی، مواد کی بلاکنگ اور جرائم کی تحقیقات کرے گی۔

(Deepfack Videos Publishing) ڈیپ فیک ویڈیوز کی اشاعت

 سال 2025 میں پیکا ایکٹ میں ڈیپ فیک ویڈیوز کے خلاف سخت قوانین شامل کیے گئے اب جعلی یا گمراہ کن معلومات (خصوصاً ڈیپ فیک ویڈیوز)  کا بنانا اور ان کو پھیلانا جرم ہےجس کی سزا 3 سال قید اور 20 لاکھ روپے تک کا جرمانہ ہے۔ڈیپ فیک ویڈیوز کی نگرانی کے لیے سوشل میڈیا اتھارٹی  قائم کی گئی ہے جو فوری طور پر ایسی ویڈیوز کو بلاک کر سکتی ہے  یا ہٹا سکتی ہے۔مزید یہ کہ  نیشنل سائبر کرائم ایجنسی  ایف آئی اے کی جگہ لے کر ایسے کیسز کی تفتیش کرے گی۔

ڈیجیٹل ہراسگی کے کیسز میں فوری ایف آئی آر  کے اندراج کا قانون

پاکستان میں ڈیجیٹل ہراسمنٹ (آن لائن ہراسمنٹ، سائبر اسٹاکنگ، یا غیر رضامندی سے تصاویر/ویڈیوز شیئر کرنا)  جیسے جرائم کو پیکا ایکٹ 2016 کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے، جوضابطہ فوجداری کی دفعہ 154 کے مطابق فوری ایف آئی آر کے اندراج کو لازمی بناتا ہے۔سال 2025 کی ترامیم   نے ان قوانین کو مزید سخت اور مؤثر بنا دیا ہے۔

آن لائن فنانشل فراڈ کے مقدمات کے لیے خصوصی عدالتوں کا قیام

پاکستان میں آن لائن فنانشل فراڈ (جیسے انٹرنیٹ بینکنگ  دھوکہ  وفراڈ، جعلی طریقے سے کاروبار میں شراکت کا لالچ، فشنگ، یا آئی ڈی چوری) کو پیکا ایکٹ کے کے تحت سنگین جرم قرار دیا گیا ہے۔سیکشن 14  کے مطابق، یہ جرم قابلِ گرفتاری ہے، جس کی سزا 3 سال قید یا 5  لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں ہو سکتی ہے۔نیشنل  سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی نے اس سلسلہ میں جدید ٹیکنالوجی کا استعمال عمل میں لاکر ان دھوکہ دہی کی وارداتوں میں بہت احسن انداز میں قابو پایا ہے  گزشتہ چند ماہ اس بات کا واضح ثبوت ہیں۔

(Cyber Crime Complaint Online) سائبر کرائم شکایت درج کرانے کا طریقہ

متاثرہ شہری درج ذیل طریقوں سے اپنی شکایت درج کرا سکتے ہیں

cyber crime register complaint,cyber crime reporting portal,cyber crime helpline number in pakistan

نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کی آن لائن پورٹل پر جا کر ڈیجیٹل فارم  کو مکمل کرکے اپنی شکایت درج کراسکتے ہیں۔

ایجنسی کے ہیلپ لائن نمبر 1799 پر کال کرکے شکایت کا اندراج کراسکتے ہیں۔

helpdesk@nccia.gov.pk شکایات کا اندراج یا جرم کی رپورٹ بذریعہ ای میل بھی کراسکتے ہیں۔

نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی کے قریبی آفس یا ریجنل سائبر کرائم سیل سے رابطہ  کرکے تحریری درخواست جمع کرا سکتے ہیں ۔

شکایت کے ساتھ  متعلقہ ثبوت مثلاً اسکرین شاٹس یا کلپس، ویڈیوز،آڈیوز، لنکس، اور چیٹس لازمی منسلک کریں۔

(Preventions of  Cyber Attacks) سائبرحملوں سے بچاؤ کی حفاظتی تدابیر

پاکستان میں نیشنل  سائبر ایجنسی  کے تحت ایک نیا عوامی پروگرام شروع کیا گیا ہے جس میں شہریوں کو یہ بتایا جاتا ہے کہ وہ خود کو آن لائن جرائم سے کیسے محفوظ رکھ سکتے ہیں، مختلف تکنیکی ماہرین  کی رائے کی روسے درج ذیل تدابیر ضرور اپنائیں ، اپنا اور اپنے کاروبارکا مستقبل محفوظ بنائیں۔

(How to Make Password Strong) پاسورڈ کو محفوظ بنانا

اپنے زیر استعمال اکاؤنٹس اور ڈیوائسز  کے کوڈز یعنی پاس ورڈز کو مضبوط بنائیں، مثلا آسانی سے استعمال اور یاد ہوجانے والے پاسورڈز بالکل استعمال نہ کریں اکثر لوگ پاس ورڈز میں ایک سے لے کر 9 تک ہندسے ، اپنا موبائل نمبر،تاریخ پیدائش، 4 مرتبہ یا اس سے زائد مرتبہ صفر کا استعمال یا باآسانی یاد ہوجانے والے کوڈز یا پاسورڈز کا استعمال کرتے ہیں جو کہ بہت ہی غلط پریکٹس ہے ہمیشہ پاسورڈ کو منفر اور مشکل رکھیں تاکہ کوئی اس کو ایک نظر میں دیکھ کر یاد نہ کرسکے یا اندازہ لگا کر استعمال نہ کرسکے،ذیل میں آپ کو کمزور اور مضبوط پاسورڈز کی اقسام بتائی جارہی ہیں تاکہ عوام الناس کو بخوبی ادراک ہو سکے۔

how to protect passwords from hackers

 (Wi-Fi Precautions)وائی فائی  کی احتیاطی تدابیر

وائی فائی کو   استعمال کرتے وقت وی پی این  لازمی آن کریں اور اپنے وائی فائی کا پاسورڈ اوپر بتائی گئی ترتیب سے رکھیں تاکہ ہرکسی کو اس  رسائی  نہ ہو سکے، سیٹنگ میں جاکر اگر اپنے وائی فائی کو ہائیڈ  کرلیا جائے تو اپنے نیٹ ورک کو چوری یا غلط استعمال ہونے سے بچایا جاسکتاہے۔

(Avoid Unknown Emails) نامعلوم ای میلز سے بچاؤ

نامعلوم ای میلز یا لنکس پرہرگز کلک نہ کریں کیونکہ اکثر ای میلز ایسی پرکشش آفرز یا ڈیلز پیش کرتی ہیں جن سے متاثر ہوکر اکثر لوگ ان میں اپنی پرسنل معلومات یا اپنے اکاؤنٹس کا یوزر اور پاسورڈ  لکھ دیتے ہیں جس سے وہ معلومات دوسرے کے پاس پہنچ جاتی ہیں تاہم ایسی بھی ای میلز ہیں جو ایسی کوڈنگ پر مشتمل ہوتی ہیں جن کو اپنے موبائل یا کمپیوٹر میں محفوظ یا ڈاؤن لوڈ کرنے سے آپ کے کمپیوٹر یا موبائل کی سارے معلومات بشمول، تحریری معلومات،تصاویر یا ویڈیوز تک دوسرے کی رسائی ہو جاتی ہے جس سے نہ صرف آپ کی اہم ذاتی اور کاروباری معلومات دھوکہ سے ہتھیائی جاسکتی ہیں اور ان کا غلط استعمال کرکے آپ کو نقصان پہنچایا جاسکتاہے۔

اپنے بچوں کی آن لائن سرگرمیوں کی نگرانی کریں۔

صرف تصدیق شدہ ویب سائٹس پر خرید و فروخت  کریں۔

(Court proceedings of cybercrimes) سائبر کرائمز کی عدالتی کاروائیاں

سائبر کرائم کے مقدمات اب خصوصی عدالت برائے سائبر کرائمز میں سنے جاتے ہیں ، عدالتیں ڈیجیٹل ثبوت، فرانزک رپورٹس، گواہوں کے بیانات، اور ٹیکنیکل ماہرین کی رائے کی بنیاد پر فیصلے دیتی ہیں۔
گزشتہ سال  اور 2025 میں کئی ایسے اہم فیصلے سامنے آئے ہیں جنہوں نے سائبر قوانین کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا اور  تکنیکی بنیادوں  پر تفتیش کی اہمیت کی حوصلہ افزائی کی ہے۔

لب لباب

پاکستان میں سائبر کرائمز کی روک تھام اب ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے۔نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی  جدید ٹیکنالوجی، فرانزک تحقیقات، اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے ڈیجیٹل جرائم کے خلاف صفِ اول میں کھڑی ہے۔پیکا ایکٹ کی نئی ترامیم نے اس میدان میں قانونی بنیادوں کو مزید مضبوط کیا ہے، مگر اصل کامیابی عوامی شعور اور احتیاط سے ممکن ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

1. What is the National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA)?

The National Cyber Crime Investigation Agency (NCCIA) is Pakistan’s new specialized body for investigating online crimes. It was established under the Prevention of Electronic Crimes Act (PECA) 2016, amended in 2025, to replace the FIA Cyber Crime Wing. The agency looks after cases such as online fraud, data theft, hacking, deepfake videos, and cyber harassment, using advanced forensic and digital tools.

2. How can I report a cybercrime in Pakistan?

You can file a complaint in several ways:

  • Visit the official NCCIA Online Complaint Portal: https://complaint.nccia.gov.pk/

  • Call the Cyber Crime 24/7 Helpline:1799 for immediate help.

  • Send an email with your details and evidence to  helpdesk@nccia.gov.pk

  • Or visit the nearest NCCIA regional office to submit a written complaint.

Always attach any proof such as screenshots, chat history or payment slips with your complaint.

3. What are the most common types of cybercrimes in Pakistan?

Some of the most reported cybercrimes in 2025 include financial scams, online blackmailing, hacking, deepfake videos, phishing attacks, data theft, and cryptocurrency fraud. These crimes have increased with the rise of mobile apps, social media use and online trading platforms.

4. What are the punishments for cybercrimes under the PECA Act 2025?

The PECA Act 2025 sets clear penalties for digital offenses.

  • Spreading fake news or deepfake videos can lead to up to 3 years in prison or a PKR 2 million fine.

  • Online fraud and financial scams can result in 3 years’ imprisonment or PKR 500,000 fine.

  • Cyber harassment and stalking cases must be registered immediately under Section 154 of CrPC.

The new latest amendments in 2025 have made punishments stricter and investigations faster.

5. What are deepfake crimes and are they illegal in Pakistan?

Yes, deepfakes are illegal in Pakistan. Creating or sharing fake videos, images, or audio clips made through artificial intelligence (AI) to deceive or blackmail someone is a serious crime.
Under PECA 2025 Act, offenders can face up to three years in jail and heavy fines. A Social Media Authority has also been set up to monitor and remove such content promptly.

6. How can women report cyber harassment or blackmailing?

Women can report any form of online harassment or blackmailing through:

  • Helpline 1799, available 24/7.

  • The official NCCIA complaint portal.

  • Or the Punjab Women Development Department’s Cyber Helpline.

Lady officers and special investigation units handle such cases confidentially under PECA 2025.

7. What kind of forensic units does NCCIA use in investigations?

NCCIA uses four main forensic units:

  1. Computer Forensics: Recovers evidence from computers and servers.

  2. Mobile Forensics: Extracts data from phones and smart devices.

  3. Audio/Video Forensics: Verifies recordings and deepfakes.

  4. Network Forensics: Investigates hacking and cyberattacks.

8. What are the new updates in the PECA Amendment Act 2025?

The latest amendments introduced in 2025 include:

  • Stricter action against fake news and deepfake content.

  • Immediate FIR registration for harassment cases.

  • Formation of the Digital Rights Protection Authority (DRPA).

  • Creation of a Social Media Authority to remove harmful content quickly.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *