how to file fir, online fir, fir punjab
|

How to File an FIR in Pakistan | FIR Check Online by CNIC – Complete Legal Guide

 

The First Information Report (FIR) is the foundation of Pakistan’s criminal justice system, initiating legal action for cognizable offenses under Section 154 of the CrPC. Master How To File An FIR in Pakistan with clear guide by Qanooni Rah in urdu and stay updated with Online FIR Check By CNIC Pakistan to track your case effortlessly.

ایف آئی آر یعنی ابتدائی اطلاعی رپورٹ (پرچہ) کسی بھی جرم کی رپورٹنگ کا پہلا اور بنیادی مرحلہ ہے۔ اس کا اندراج پولیس اسٹیشن میں ہوتا ہے اور یہ رپورٹ فوجداری کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔

(What Does FIR Mean in Pakistan) ایف آئی آر کا کیا مطلب ہے؟

ایف آئی آر کی قانونی حیثیت اور اہمیت کو سمجھنا ہر شہری کے لیے ضروری ہے تاکہ وہ اپنے حقوق سے بخوبی آگاہ ہو سکیں۔ایف آئی آر وہ قانونی  دستاویز  ہے جس میں کسی جرم کی بابت سب سے پہلی اطلاع پولیس کو دی جاتی ہے۔ یہ سی پی آر سی  کی دفعہ 154 کے تحت درج کی جاتی ہے اور اس کے بعد تفتیشی عمل کا آغاز ہوتا ہے۔

Legal Provisions and Sections of  FIR ایف آئی آر کے قانونی سیکشنز اور دفعات 

ایف آئی آر کا اندراج پاکستان میں ضابطہ فوجداری 1898 کی دفعہ 154 کے تحت ہوتا ہے۔ کسی بھی قابل دست اندازی جرم  پر پولیس کا فرض ہے کہ فوری ایف آئی آر درج کرے۔

(What is FIR and How to File it) ایف آئی آر کیا ہے

ایف آئی آر (First Information Report) پاکستان میں کسی بھی فوجداری جرم کے حوالے سے درج کی جانے والی سب سے پہلی رپورٹ ہے۔ اس مقصد کیلئے  متاثرہ شخص پولیس کو جرم کی بابت ایک تحریری درخواست پیش کرتا ہے، جس میں سرزد ہونے والا جرم، ملزم کا نام  و پتہ اور جرم قائم ہونے کا وقت چشم دید گواہا ن کی موجودگی ظاہر کرکے پیش کی جاتی ہے۔ ایف آئی آر درج کروانے کے لیے متاثرہ شخص، کسی چشم دید گواہ یا کسی بھی عام شہری کو متعلقہ پولیس اسٹیشن جا کر زبانی یا تحریری طور پر اطلاع دینا ہوتی ہے۔جس کے بعد پولیس ایف آئی آر کا اندراج کرکے قانونی کاروائی کا باضابطہ آغاز کرتی ہے۔

What happens after FIR registration in Pakistan ایف آئی آر درج کے بعد کا عمل

ایف آئی آر درج ہونے کے بعد پولیس فوری طور پر تفتیش شروع کرتی ہے۔ جائے وقوعہ کا معائنہ، گواہوں کے بیانات اور شواہد اکٹھے کیے جاتے ہیں۔ اگر جرم قابل دست اندازی پولیس ہو تو ملزم کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے۔

How to Clear FIR record in Pakistan ایف آئی کاریکارڈمکمل طور پر کیسے ختم کیا جائے 

پاکستان میں ایف آئی آر کا ریکارڈ مکمل طور پر ختم  کروانے کے لیے، سی آر پی سی ضابطہ فوجداری کے سیکشن 561  اے  کے تحت ہائی کورٹ میں کوائش منٹ کی رٹ پٹیشن دائر کی جاتی ہے۔ اگر مقدمہ جھوٹا یا فریقین کے درمیان صلح ہو جائے تو عدالت ایف آئی آر کو ختم کر کے ریکارڈ صاف کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔

Online FIR check Punjab Police Pakistan ایف آئی آر کو آن لائن چیک کرنا ؟     

پنجاب پولیس نے عوامی سہولت کے لیے ایف آئی آر کی آن لائن چیکنگ کا نظام متعارف کرایا ہے جس سے شہری گھر بیٹھے اپنی ایف آئی آر  کا اسٹیٹس دیکھ سکتے ہیں۔یہ لنک آپکو ایف آئی تک رسائی فراہم کرسکتا ہے۔  ایف آئی آر آن لائن

How to download FIR copy online in Pakistanایف آئی آر کو ڈاؤنلوڈ  کیسے کریں ؟  

آن لائن ایف آئی آر کاپی ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے شہریوں کو متعلقہ پولیس ویب سائٹ پر جانا ہوگا، اپنا ایف آئی آر نمبر یا شناختی کارڈ کا نمبر  درج کرنا ہوتا ہے، اس کے بعد ایف آئی آر ڈاؤن لوڈ کی جا سکتی ہے۔

Punjab Police FIR online registration process آن لائن ایف آئی آر کا اندراج        

پنجاب پولیس نے ای-ایف آئی آر کا سسٹم بھی متعارف کرایا ہے جہاں شہری آن لائن رپورٹ درج کر سکتے ہیں، خاص طور پر پراپرٹی چوری یا گاڑی چھیننے جیسے جرائم کے لیے۔

Case laws Related to FIR Registration in Pakistan کیس لاز 

پاکستان میں کئی مشہور عدالتی فیصلے ہیں جن میں ایف آئی آر کے اندراج کو لازمی قرار دیا گیا ہے، جیسے 

PLD 1998 Lah 214

SCMR 442-1975

ایف آئی آر کے متعلقہ اہم سوالات اور ان کے جوابات

ایف آئی آر کے متعلقہ اہم قانونی سوالات اور ان کے جوابات درج کئے جا رہے ہیں جو وکلاء اور عوام الناس کیلئے جاننا بہت ضروری ہیں یہ آپکی پیشہ وارانہ مہارتوں میں بہترین اضافے کا باعث بن سکتے ہیں۔

What is Section 154 CrPC FIR registration  ضابطہ فوجدراری کا دفعہ 154 کیا ہے؟

کریمنل پروسیجر کوڈ جسے ضابطہ فوجداری بھی کہا جاتا ہے  کا یہ  دفعہ پولیس کو پابند کرتا ہے کہ ہر قابل دست اندازی جرم پر فوری ایف آئی آر درج کرے اور اس میں کسی بھی تاخیر یا عذر کی گنجائش نہیں ہے۔

Who can cancel FIR according to law ایف آئی آر کو کون منسوخ کر سکتا ہے؟

ایف آئی آر کی منسوخی عدالت کے حکم یا پولیس کی کلوزر رپورٹ کے ذریعے ہوتی ہے، جسے “کلاس بی” یا “کلاس سی” رپورٹ کہا جاتا ہے۔

Rights of complainant while filing FIR in Pakistan ایف آئی آرکی کاپی کا حصول 

شکایت کنندہ کو یہ حق حاصل ہے کہ اسے ایف آئی آر کی کاپی مفت دی جائے اور اسے مکمل معلومات فراہم کی جائیں۔ اس سلسلے میں اگر  پولیس کا عملہ تعاون نہ کر رہا ہو تو متعلقہ ایس ایچ اور یا  پولیس کی شکایت کے ہیلپ لائن نمبر 8787 پر کال کرکے اپنی شکایت بتائی جاسکتی ہے۔

 How to complaint agains police? پولیس کے خلاف شکایت کیسے درج کرائیں

پاکستان میں پولیس کے خلاف شکایت درج کروانے کے لیے درج ذیل ہیلپ لائن نمبرز پر کال کرکے اپنی شکایت درج کرائی جاسکتی ہے۔

پنجاب پولیس کمپلینٹ ہیلپ لائن: 📞 8787

اسلام آباد پولیس ہیلپ لائن: 📞 1715

سندھ پولیس شکایت نمبر: 📞 9110

خیبر پختونخوا پولیس ہیلپ لائن: 📞 1121

بلوچستان پولیس شکایت سیل نمبر: 📞 -0819201262

  www.citizenportal.gov.pk : وزیراعظم شکایت پورٹل

Can FIR be filed against police officer? پولیس کے خلاف ایف آئی آر کا اندراج 

پاکستان کے قانون کے مطابق کوئی بھی سرکاری یا نیم سرکاری شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے اور  اگر پولیس افسر نے  بھی کوئی جرم کیا ہو تو اس کے خلاف بھی ایف آئی آر درج ہو سکتی ہےاور ایف آئی آر کے اندارج کے بعد پولیس اپنے پولیس آفیسر کو بھی گرفتار کرکے تفتیش کا آغاز کرسکتی ہے۔

What documents are needed to file FIR? ایف آئی آر اندراج کیلئے ضروری چیزیں

پاکستان میں ایف آئی کے اندراج کیلئے قومی شناختی کارڈ، جرم کے متعلقہ ہاتھ سے لکھی ہوئی یا کمپیوٹرائزڈ درخواست کی تحریر اور جرم کے ابتدائی شواہد درکار ہوتے ہیں جن سے ایف آئی آر کا اندراج ممکن ہو پاتا ہے۔

How to file FIR for property dispute in Pakistan  جائیدار کے متعلقہ ایف آئی آر 

پاکستان میں زرعی یا سکنی زمین، پلاٹ اور پراپرٹی تنازعہ کی ایف آئی آر درج کروانے کے لیےناجائز قبضہ، جعلسازی یا دھوکہ دہی جیسے الزامات ہونا ضروری ہیں پھر ہی ایسی ایف آئی آر کا اندراج ممکن ہوتاہے۔اس سلسلے  میں پولیس کو مکمل چھان بین کرکے ایف آئی آر کا اندراج کرنا پڑتا ہے جو کہ عام درج کی جانے والی ایف آئی آر کی نسبت زیادہ پیچیدہ ہو سکتی ہے کیونکہ پولیس قبضہ کے معاملہ میں انتہائی محتاط انداز میں قانونی کاروائی کا آغاز کرتی ہے۔

(Case Laws Related to Registration of FIR) ایف آئی آر کے متعلقہ کیس لاز

ایف آئی آر کے اندراج سے قبل ابتدائی انکوائری غیر قانونی ہے۔ (PLR 1998 Lah 214)

فوری درج شدہ ایف آئی آر جعلی کیس بنانے کے امکان کو ختم کرتی ہے۔ (1975 SCMR 442)

ایف آئی آر کا فوری اندراج اس کی صداقت کو مضبوط بناتا ہے۔ (PLJ 1989 Cr.C. Lah 403)

ایف آئی آر میں تاخیر کے بارے میں مختلف کیس لا کے ذریعے اصول وضع کیے گئے ہیں

غیر معمولی تاخیر سے کہانی میں ملاوٹ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ (1995 P.Cr.L.J 459)

تاخیر کی وضاحت اگر معقول ہو تو اس سے کیس پر اثر نہیں پڑتا۔ (1976 SCMR 135)

بلاجواز تاخیر کیس کے سچ ہونے پر شک پیدا کرتی ہے۔ (1976 P.Cr.LJ 1122)

  ایف آئی آر کے اندراج میں پولیس کے کردار کے متعلقہ کیس لاء

ایس ایچ او کا فرض ہے کہ وہ ہر قابل دست اندازی جرم کی ایف آئی آر درج کرے، اس میں کسی سینئر افسر کی اجازت کی ضرورت نہیں (PLJ 1983 Lah 40)ہوتی۔ 

ایک وقوعہ پر دوسری ایف آئی آر درج کرنا عام طور پر ممنوع ہے، لیکن اگر دوسری ایف آئی آر میں بالکل مختلف موقف ہو تو درج کی جا سکتی (PLJ 1987 Cr.C. Lah 322)ہے۔ 

اگر ملزم خود ایف آئی آر درج کرائے جس میں وہ اپنے جرم کا اعتراف کرے تو ایسی ایف آئی آر بطور اقرار جرم قابل قبول نہیں ہوگی۔ (PLD 1965 SC 366)

ایف آئی آر کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہوتی بلکہ اس کا مقصد صرف پولیس کو جرم کی ابتدائی اطلاع دینا ہے۔

(PLD 1994 SC 255)

FIR Delayed or Fabricated ایف آئی آر میں تاخیر یا من گھڑت

 اگر گواہوں کے نام ایف آئی آر میں شامل نہیں لیکن بعد میں شامل کیے جائیں تو ایسی گواہی مشکوک ہو جاتی ہے۔ 

(PLD 1964 Lah 32)

اگر ایف آئی آر میں جرم کا بنیادی ذکر موجود نہ ہو تو اسے قابل قبول نہیں سمجھا جائے گا۔ 

(1972 P.Cr.LJ 491)

عدالت  عالیہ ایف آئی آر کے اندراج کا حکم دے سکتی ہیں، خاص طور پر جب پولیس کسی وجہ سے ایف آئی آر کا اندراج کرنے سے انکار کرے۔

(PLD 1998 Lah 193)

ٹیلیفونک پیغام اگر جرم کا واضح ذکر کرے تو اسے ایف آئی آر تصور کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ اسے لکھ کر مہر بند کیا جائے۔ 

(PLJ 1977 Kar 136)

FIR in Hudood and Special Laws حدود کیسز میں ایف آئی آر 

حدود آرڈیننس کے تحت محض مخبر کی اطلاع پر ایف آئی آر کا اندراج جائز نہیں، بلکہ عینی شہادت یا متاثرہ کی شکایت ضروری ہے۔

(PLJ 1998 Lah 1311)

لب لباب

ایف آئی آر (اندراج مقدمہ/پرچہ)  پاکستان کے فوجداری نظام انصاف کا پہلا اور اہم قدم ہے، جو کسی جرم کی اطلاع سے قانونی کارروائی کا آغاز کرتی ہے۔ اس کے درست اندراج سے نہ صرف انصاف کی راہ ہموار ہوتی ہے بلکہ جھوٹے مقدمات سے بھی بچاؤ ممکن ہوتا ہے۔ شہریوں کو چاہیے کہ وہ ایف آئی آر کے قانونی طریقۂ کار اور اپنے حقوق سے باخبر رہیں۔ قانونی راہ   آپ کی رہنمائی کے لیے ہر قدم پر موجود ہے، تاکہ آپ انصاف کے حصول میں مضبوط اور بااعتماد رہ سکیں۔

Frequently Asked Questions 

What is an FIR?

Answer: An FIR (First Information Report) is the first official document registered by the police when they receive information about a cognizable offence.

Who can file an FIR?

Answer: Any person who has knowledge of the commission of a cognizable offence can file an FIR, including the victim, witness, or even a police officer.

Is FIR mandatory for every crime?

Answer: FIR is mandatory for cognizable offences (like murder, robbery), where police can arrest without prior approval from the court. For non-cognizable offences (like defamation), police need prior approval from a Magistrate.

Can FIR be filed over the phone?

Answer: Yes, but such telephonic FIR must be written down, read over to the caller, and properly signed or recorded. Otherwise, it lacks legal sanctity.

Can there be two FIRs for the same incident?

Answer: Generally, second FIR is not allowed. However, if the second FIR reveals a completely different version of the incident, it can be registered.

What happens if police refuse to register FIR?

The complainant can:

Approach the SP or DPO.

File a complaint to the Magistrate under Section 22-A CrPC.

Approach the High Court for a writ petition to compel police to register FIR.

Can FIR be cancelled?

Answer: Once registered, FIR cannot be cancelled by police alone. It requires approval from the court, especially after cognizance has been taken.

Is FIR admissible in court?

FIR itself is not substantive evidence but can be used to:

Corroborate or contradict the statement of its maker.

Show the earliest version of the incident.

What if FIR is delayed?

Answer: Delay is not always fatal if reasonably explained (e.g., taking the injured to hospital first). However, unexplained delay creates suspicion.

Can accused file an FIR?

Answer: Yes, but it will not be treated as confession if it contains incriminating admission by the accused.

Can FIR be quashed?

Yes, High Courts under Article 199 of the Constitution have the power to quash FIR if it is:

Based on mala fide intentions.

Abuses process of law.

Fails to disclose any offence.

Similar Posts

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *